30 نومبر 2025 - 08:46
بھارتی جنتا پارٹی کے لیڈر نے مولانا مدنی کے بیان کو ملکی مفادات کے خلاف قرار دیا

بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے الیکشن کمیشن پر الزامات کو سیاسی سازش بتاتے ہوئے کہا کہ اکھلیش کا بیان سازش کے تحت پیدا کیا گیا انتشار ہے تاکہ عوام کو انتخابی عمل پراعتماد نہ رہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے الیکشن کمیشن پر الزامات کو سیاسی سازش بتاتے ہوئے کہا کہ اکھلیش کا بیان سازش کے تحت پیدا کیا گیا انتشار ہے تاکہ عوام کو انتخابی عمل پراعتماد نہ رہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مولانا مدنی کی جانب سے ظلم کے خلاف جہاد کا حوالہ دینا غیر ذمہ دارانہ ہے اور اس سے ملک کے اتحاد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

بی جے پی لیڈر اور لوک سبھا رکن پارلیمنٹ سمبت پاترا نے ہفتے کے روز جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ مولانا محمود مدنی اور سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کے حالیہ بیانات کو ’’تقسیم پیدا کرنے والا، اشتعال انگیز اور گمراہ کن‘‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا مدنی کی جانب سے ’’ظلم کے خلاف جہاد‘‘ کا حوالہ دینا غیر ذمہ دارانہ ہے اور اس سے ملک کے اتحاد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

سمبت پاترا نے الزام لگایا کہ مولانا مدنی نے بھوپال میں دیے گئے بیان میں ملک کے مسلمانوں میں خوف پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدنی نے ’’ماب لنچنگ، وقف املاک پر قبضے اور مدرسوں کے خلاف مہم‘‘ جیسے معاملات کا ذکر کرکے ایک مخصوص طبقے میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کیا ہے۔ مولانا مدنی نے اپنی تقریر میں عدلیہ کی خود مختاری پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ ’’سپریم کورٹ تبھی سپریم ہے جب وہ آئین کے مطابق فیصلہ کرے۔‘‘

سمبت پاترا نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ مولانا مدنی کے اس بیان کا سنگین نوٹس لے، کیونکہ ان کے مطابق یہ عدلیہ کی توہین اور عوام کو بہکانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ’’جہاد‘‘ کا لفظ استعمال کرکے ملک میں اشتعال پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے۔

بی جے پی لیڈر نے اسی دوران اکھلیش یادو کے اس بیان پر بھی سخت تنقید کی جس میں انہوں نے الیکشن کمیشن کے ملازمین پر دباؤ ڈالنے کا الزام لگایا تھا۔ اکھلیش یادو نے الزام لگایا تھا کہ خصوصی انتخابی نظرثانی کے دوران یوپی اور دیگر ریاستوں میں افسران دباؤ میں کام کر رہے ہیں اور فتح پور میں ایک سپروائزر اسی دباؤ کے باعث خودکشی پر مجبور ہوا۔ پاترا نے کہا کہ اکھلیش کا بیان ’’سازش کے تحت پیدا کیا گیا انتشار‘‘ ہے تاکہ عوام کو انتخابی عمل پر اعتماد نہ رہے۔

سمبت پاترا نے ملک کی دوسری سہ ماہی کی جی ڈی پی شرح کو ’’تاریخی‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ایک طرف ملک آگے بڑھ رہا ہے جبکہ دوسری طرف ایسے بیانات دیے جا رہے ہیں جو انتشار پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’ملک ترقی کر رہا ہے اور یہ لوگ نفرت پھیلانے میں مصروف ہیں۔ یہ بیانات نہ صرف گمراہ کن ہیں بلکہ قومی اتحاد کے خلاف ہیں۔‘

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha